سیرتِ حضرت علی اکبرؑ اور نوجوان نسل کی فکری و اخلاقی تربیت

حوزہ/نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ اور مستقبل کے معمار ہوتے ہیں۔ ان کی فکری، اخلاقی اور عملی تربیت ہی معاشرے کی ترقی اور کامیابی کی ضمانت بنتی ہے۔ عصرِ حاضر میں جہاں نوجوان نسل بے شمار مواقع سے فائدہ اٹھا رہی ہے، وہیں مختلف فکری، اخلاقی اور سماجی چیلنجوں کا بھی سامنا کر رہی ہے جنہوں نے ان کی فکری، اخلاقی اور دینی زندگی کو متاثر کیا ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ اخلاقی زوال کا ہے۔

تحریر: مولانا سید امیر حسنین زیدی
حوزہ نیوز ایجنسی|‌ نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ اور مستقبل کے معمار ہوتے ہیں۔ ان کی فکری، اخلاقی اور عملی تربیت ہی معاشرے کی ترقی اور کامیابی کی ضمانت بنتی ہے۔ عصرِ حاضر میں جہاں نوجوان نسل بے شمار مواقع سے فائدہ اٹھا رہی ہے، وہیں مختلف فکری، اخلاقی اور سماجی چیلنجوں کا بھی سامنا کر رہی ہے جنہوں نے ان کی فکری، اخلاقی اور دینی زندگی کو متاثر کیا ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ اخلاقی زوال کا ہے۔

جدید تہذیبی رجحانات اور بے راہ روی کے بڑھتے ہوئے اثرات نے نوجوانوں کے اخلاق و کردار پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں جس کے نتیجے میں حیا، سچائی، احترامِ بزرگ اور احساسِ ذمہ داری جیسی اقدار کمزور پڑتی جا رہی ہیں۔
اسی طرح سوشل میڈیا کا غیر متوازن اور منفی استعمال بھی نوجوان نسل کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اگرچہ یہ معلومات اور رابطے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے لیکن اس کا غلط استعمال وقت کے ضیاع، جھوٹی خبروں کے انتشار اور غیر اخلاقی مواد تک رسائی کا سبب بن رہا ہے جس کے نتیجے میں نوجوانوں کی فکری صلاحیتوں، تعلیمی کارکردگی اور سماجی رویّوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب دینی شعور کی کمی بھی ایک تشویش ناک مسئلہ ہے۔ بہت سے نوجوان اپنی دینی ذمہ داریوں اور اسلامی تعلیمات سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ دین کے بارے میں کم معلومات اور مذہبی تعلیمات سے عدم واقفیت کے باعث وہ زندگی کے اہم فیصلوں میں اسلامی اقدار سے مطلوبہ رہنمائی حاصل نہیں کر پاتے۔
اس کے علاوہ مادّہ پرستی کا بڑھتا ہوا رجحان نوجوانوں کو روحانی اور اخلاقی اقدار سے دور کر رہا ہے۔ دولت، شہرت اور دنیاوی آسائشوں کے حصول کی دوڑ میں بہت سے نوجوان اپنی اصل ذمہ داریوں اور اعلیٰ انسانی مقاصد کو فراموش کر بیٹھتے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کی زندگی میں روحانی سکون اور اخلاقی استحکام کمزور پڑ جاتا ہے۔
ایسے حالات میں انہیں مضبوط فکری بنیادوں اور صحیح رہنمائی کی اشد ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی دینی، اخلاقی اور ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھتے ہوئے زندگی کے مختلف میدانوں میں مثبت اور مؤثر کردار ادا کر سکیں، اور دنیاوی ترقی کے ساتھ ساتھ روحانی و اخلاقی بلندیوں کو بھی حاصل کر سکیں ان حالات میں کربلا نوجوانوں کو صحیح راستہ دکھاتی ہے اور انہیں ایک باوقار اور باکردار زندگی گزارنے کی ترغیب دیتی ہے۔
واقعۂ کربلا کے درخشاں کرداروں میں حضرت علی اکبرؑ کی شخصیت نوجوانوں کے لیے ایک بہترین نمونۂ عمل ہے۔ آپ امام حسینؑ کے فرزند اور کربلا کے عظیم نوجوان مجاہد تھے جنہوں نے ایمان، اخلاق، اطاعت اور قربانی کی ایسی مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک نوجوانوں کی رہنمائی کرتی رہے گی۔ حضرت علی اکبرؑ کی سیرت نوجوان نسل کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ حقیقی کامیابی اعلیٰ کردار، مضبوط ایمان اور حق کے راستے پر ثابت قدم رہنے میں ہے۔
علی اکبرؑ اپنے اخلاق، شرافت اور حسنِ کردار میں رسولِ اکرم (ص)سے سب سے زیادہ مشابہ تھے۔جیسا کہ امام حسینؑ نے علی اکبرؑ کو میدانِ کربلا کی طرف روانہ کرتے ہوئے فرمایا : اللّٰهُمَّ اشْهَدْ عَلَى هٰؤُلَاءِ الْقَوْمِ، فَقَدْ بَرَزَ إِلَيْهِمْ غُلَامٌ أَشْبَهُ النَّاسِ خَلْقًا وَخُلُقًا وَمَنْطِقًا بِرَسُولِكَ مُحَمَّدٍ وَكُنَّا إِذَا اشْتَقْنَا إِلَى نَبِيِّكَ نَظَرْنَا ’’پروردگار! تو گواہ رہنا کہ ان لوگوں کے مقابلے میں ایسا جوان جا رہا ہے جو شکل و صورت، اخلاق و کردار اور گفتار میں تیرے رسول محمد(ص) سے سب سے زیادہ مشابہ ہے، اور جب بھی ہمیں تیرے نبی کی زیارت کا شوق ہوتا تھا تو ہم اس کی طرف دیکھ لیا کرتے تھے۔ ‘‘ یہ کلمات درحقیقت حضرت علی اکبرؑ کی شخصیت کا جامع تعارف ہیں۔ ان چند الفاظ میں امام حسینؑ نے اپنے فرزند کے ظاہری حسن، باطنی کمالات اور فکری و اخلاقی عظمت کو سمیٹ دیا ہے۔’’خَلْق‘‘یعنی شکل و صورت میں مشابہت اس بات کی علامت ہے کہ حضرت علی اکبرؑ ظاہری وجاہت اور حسن کے پیکر تھے، لیکن امام حسینؑ نے صرف ظاہری حسن کا ذکر نہیں کیا بلکہ اس کے ساتھ ’’خُلُق‘‘کا لفظ بھی استعمال فرمایا یعنی اخلاق و کردار۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ علی اکبر کا اصل امتیاز ان کا بلند اخلاق، پاکیزہ کردار، حسنِ معاشرت، نرم خوئی، شرافت اور انسان دوستی تھی۔ آپ کا کردار اس قدر پاکیزہ تھا کہ امام حسینؑ نے اسے اخلاقِ نبویؐ کا آئینہ قرار دیا۔آپ کی پاکیزہ سیرت اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک نوجوان کی اصل خوبصورتی اس کے اخلاق اور کردار میں ہوتی ہے۔
علی اکبرؑ کی زندگی والدین کی اطاعت اور احترام کا بھی ایک روشن نمونہ ہے۔ آپ نے ہر موقع پر اپنے والد امام حسینؑ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا عملی ثبوت پیش کیا۔آپ جیسے شجاع جوان کے لئے ابتدا ہی میں میدان جنگ میں جانا اور جام شہادت نوش کر لینا آسان تھا لیکن آپ اپنے والد و امام کی اجازت کا انتظار کرتے رہے اور جب اجازت مل گئی تب میدان کارزار میں قدم رکھا اور اس طرح آپ نے اپنے امام و والد کے حکم کو اپنی خواہش پر مقدم رکھا۔ اس سے نوجوانوں کو یہ سبق ملتا ہے کہ والدین کا احترام، ان کی خدمت اور ان کی رہنمائی پر عمل کرنا کامیاب زندگی کی بنیاد ہے۔ جو نوجوان اپنے والدین کے حقوق کو پہچانتے ہیں، وہ معاشرے کے بھی ذمہ دار اور باکردار افراد بنتے ہیں۔ جناب علی اکبرؑ کے کردار کا سب سے نمایاں پہلو دین اور حق کی خاطر قربانی کا جذبہ ہے جب کربلا کے سفر میں ایک مقام پر امام حسینؑ نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ ایک منادی کہہ رہا ہے کہ یہ قافلہ جا رہا ہے اور موت اس کی طرف بڑھ رہی ہے۔تو حضرت علی اکبرؑ نے عرض کیا: یَا أَبَتِ، أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ ؟بابا جان! کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ امامؑ نے فرمایا: ہاں اس ذات کی قسم جس کی طرف تمام بندوں کی بازگشت ہے، ہم حق پر ہیں۔اس پر حضرت علی اکبرؑ نے کہا:إِذًا لَا نُبَالِي أَنْ نَمُوتَ مُحِقِّينَ پھر ہمیں کوئی پروا نہیں کہ ہم حق پر ہوتے ہوئے موت کا سامنا کریں۔یہ جملہ ان کے یقینِ کامل اور شہادت کی آرزو کا بہترین ثبوت ہے جبکہ جوانی کے ایام انسان کی زندگی کا وہ سنہرا دور ہوتا ہے جب آرزوئیں اپنے عروج پر ہوتی ہیں، تمنائیں دل میں نئی نئی انگڑائیاں لیتی ہیں، اور مستقبل کے حسین خواب نگاہوں میں سجے ہوتے ہیں ،یہی وہ عمر ہے جب انسان طاقت، جوش، ولولے اور بے شمار امکانات کا مالک ہوتا ہے۔ دنیا کی رنگینیاں، عیش و عشرت کی خواہشات، کامیابیوں کے خواب، شہرت و مقام کی تمنائیں اور زندگی کی دلکش نعمتیں انسان کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں۔ لیکن جناب علی اکبر ؑ نے عین جوانی میں تمام آرزوؤں اور تمناؤں کو پس پشت ڈال کر اسلام اور حق کی سربلندی کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔ اور قیامت تک آنے والے جوانوں کو یہ پیغام دیا کہ زندگی کا مقصد صرف ذاتی خواہشات کی تکمیل نہیں ہونا چاہیئے بلکہ حق، انصاف اور اعلیٰ انسانی اقدار کے لیے جدوجہد بھی ضروری ہے ۔جناب علی اکبرؑ کی سیرت نوجوانوں کے اندر ایثار، عزم، وفاداری اور مقصدیت کا جذبہ پیدا کرتی ہے اور انہیں ایک باکردار اور بامقصد زندگی گزارنے کی ترغیب دیتی ہے۔
اگر آج کا نوجوان حضرت علی اکبرؑ کے اعلیٰ اخلاق، پاکیزہ سیرت، بلند کردار کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لے تو وہ نہ صرف اپنی شخصیت کو علم، تقویٰ، وقار اور شرافت کے زیور سے آراستہ کر سکتا ہے بلکہ اپنے کردار، گفتار اور طرزِ عمل کے ذریعے معاشرے میں ایک مثالی، باوقار اور قابلِ احترام انسان کے طور پر نمایاں مقام بھی حاصل کر سکتا ہے۔اور قربِ الٰہی کی منزلوں تک رسائی حاصل کر کے آخرت کی کامیابی کا بھی مستحق بن سکتا ہے۔
پروردگار ہمارے جوانوں کو سیرت علی اکبر پر چلنے کی توفیق عطا فرما ۔آمین

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha